Posts

ہوا کی طاقت قابو کرنے والا ولیم

 چھوٹے سے افریقی ملک ملاوی کے ایک گاؤں میں، ایک لڑکا ولیم کامکوامبا ننگے پاؤں خشک اور پھٹی ہوئی زمین پر چل رہا تھا۔ آسمان خالی تھا، زمین بنجر۔ بارشیں رک چکی تھیں، کھیت سوکھ چکے تھے۔ کھانے کی قلت نے ہر طرف مایوسی پھیلا دی تھی۔ ولیم کے خاندان سمیت بہت سے لوگ بھوک کا شکار تھے۔   جیسے جیسے خوراک کم ہوتی گئی، ولیم کے والدین کو ایک سخت فیصلہ کرنا پڑا۔ وہ اب اس کی اسکول کی فیس برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ وہ تعلیم، جسے وہ سب سے زیادہ عزیز رکھتا تھا، چھین لی گئی۔ لیکن ولیم نے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔   ہر روز وہ اپنے گاؤں کی ایک چھوٹی سی لائبریری میں جاتا، کتابوں کے صفحات پلٹتا، علم کی تلاش میں۔ ایک دن، اس کے ہاتھ ایک کتاب لگی جس کا نام تھا *یوزنگ انرجی*۔ اس میں ونڈ ٹربائنز یعنی ہوائی چکیاں بنانے کے طریقے دکھائے گئے تھے—وہ مشینیں جو ہوا کی طاقت سے بجلی پیدا کرتی ہیں۔ ولیم نے غور سے ان تصویروں کو دیکھا۔ بجلی ان کے گاؤں میں ایک خواب تھی، لیکن اگر وہ ہوا کی طاقت کو قابو کر سکے، تو شاید وہ اپنے گھر کے لیے روشنی پیدا کر سکتا ہے؟ شاید وہ اپنے خاندان کی مدد کر سکتا ہے؟ ...

اپنی راے بنائیں۔

کامیاب انسان کی نشانیوں میں ایک یہ ہے کہ انکی رائے ہوتی ہے۔ وہ ہر معاملے پر اپنا ایک موقف اپنی ایک سوچ رکھتے ہیں۔ کسی بھی بات پر وہ آپکو ہواؤں میں تیر چلاتے نظر نھی آئیں گے۔  مجھے نھی پتہ،  میں نے اس پر غور نہیں کیا،  مجھے اس چیز کا شوق نھی،  یہ سب جواب ایک لمٹ تک ہوں تو آپکی شخصیت پر اثر نہیں ڈالتے. لیکن اگر زیادہ تر موقعوں پر آپ لوگوں کو ایک مدلل رائے کی بجائے ایسے فقروں کے پیچھے چھپتے دکھائی دیں گے تو لوگ آپکی بات سننا، آپ سے مشورہ لینا چھوڑ دیں گے۔ اور جس دن لوگوں کا اعتماد آپ سے اٹھ گیا اس دِن سے آپکی ورتھ،آپکا وقار، اور آپکی قابلیت سب گرتی جائے گی۔ جس بندے سے لوگ بات کرنا چھوڑ دیں اسکے پیچھے رہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے جذباتی فقروں کی وجہ سے اپنا مزاج نہ بدلیں۔ مزاج ایسا رکھیں کے لوگ آپکے پاس بیٹھنا ،آپ کی بات سننا، آپ سے مشورہ لینا پسند کریں۔ اُنہیں لگے کے آپکی بات میں وزن ہوتا ہے۔ ایسا تب ہی ممکن ہے جب اُنہیں آپکی رائے سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔ اکثر لوگوں کو اپنے ارد گرد کی خبر نہیں ہوتی۔آپ کسی سماجی موضوع پر اُن سے بات کریں وہ یا تو کام علمی کا مظاہرہ کریں گے اور ا...

حکمت جزبات سے بہتر ہے

 ایک بات اپ لکھ لیں جب تک پاکستان میں لوگ قران پاک کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا تفسیر سمجھنا نہیں شروع کریں گے تب تک ان کو دین جذبات کی حد تک ہی نظر ائے گا۔ سورہ نحل کی ایت125 میں اللہ فرماتا ہے کہ   اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان کے ساتھ بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے۔ لیکن یہ ایت اپ دو بندوں کو سنائیں ان پہ اس کا مختلف اثر ہوگا ایک وہ بندہ جو حکمت سے کام لینا جانتے ہیں جنہوں نے اللہ کے نبی کی سیرت کو اچھی طرح پڑھا ہے وہ اس ایت سے یہی مطلب لیں گے کہ ہمیں دین میں نرم مزاجی برداشت حکمت سے کام لینا ہے اور جذباتی بنیادوں پہ کسی کے ساتھ کوئی دشمنی یا قتل و غارت نہیں کرنی۔الزام تراشیوں کا جواب الزام تراشی سے نہیں دینا اور اگر کسی کے بارے میں کوئی غلط بات سامنے ائے تو اس کی خوب تحقیق کرنی ہے پھر اس پہ کوئی راے قائم کرنا ہے۔ اور فیصلہ  خود نہیں دینا بلکہ قانون کے تحت معاملے کا حل نکالنا ہے۔ لیکن جب اپ یہ ایت دوسرے شخص کو سناتے ہیں جو ساری عمر جذباتی تقاریر سن کے دین کو سمجھ سکا ہے وہ اس کے مقابلے میں اپ کو دو چار ایسے واقعات سنائے گا جس سے...

سمارٹ شارک

 پاکستان میں انٹرنیٹ بندش کا شکار ہیں کئی علاقوں میں سلو چل رہا ہے واٹس ایپیجز ڈاؤنلوڈ نہیں ہو رہے ہیں ویڈیوز ڈاؤلوڈ نہیں ہو رہی اڈیو میسج نہیں جا رہے۔ اور یہ اج سے نہیں ہے پاکستان میں اپ نے اس شارق کا نام تو سنا ہوگا جو ہمارے انٹرنیٹ کے کیبلز کو کھا جاتی ہے اج کل شاید سمندر سے نکل کے خشکی کے راستے پہ اگئی ہے۔ ویسے دنیا ارٹیفیشل انٹیلیجنس میں اب تحقیق کر رہی ہے لیکن ہمارے پاس ایک ایڈوانس ٹرینڈ شارق بہت عرصے سے ہے جو اب اتنی ایڈوانس ہو چکی ہے کہ اس کو کہنا بھی نہیں پڑتا اس کا اپنا انٹرنیٹ نظام ہے اور خود ہی سمجھ جاتی ہے کہ اب پاکستان میں مذہب کے خلاف ورزی ہو رہی ہے پاکستان میں سیاسسی قائدینوں کو گالیاں دی جا رہی ہیں اب پاکستان میں دفاعی اداروں کی حق تلفی ہو رہی ہے وہ فورا اپنے گھر سے نکلتی ہے اور جا کے کیبلز کو کاٹ دیتی ہے۔  پاکستان میں بڑھتے ہوئے ڈالر ریٹ کو کنٹرول کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپ اپنے ملک میں ڈالر زیادہ سے زیادہ لے کے ائیں اور اور ڈالر کا ملک سے باہر نہ جانے دیں یعنی کہ اپنی امپورٹ کم کر دیں اب اس میں ٹیک انڈسٹری ہمارے لیے سب سے زیادہ مددگار تھی۔ اس وقت ت...

رسول اللہ سے تعلق جوڑنے کی حقیقت

 ہر مسلمان چاہتا ہے کہ وہ رسول اللہ کے ساتھ خود کو کنیکٹ کرے لیکن اس کنکشن کے اس تعلق کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں۔ ائیے اس پر بات کرتے ہیں۔کچھ طریقے تو نہایت اسان ہیں اور اپ وائزین کی مقررین کی تقریروں میں اکثر ہی ان کا تذکرہ سنتے ہیں۔ بلکہ اگر میں یہ اکثر کا ورڈ ہٹا دوں اور کہوں کہ صرف انہی طریقوں کا تذکرہ سنتے ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔  وہ طریقے یہ ہیں کہ اللہ کے نبی جیسی صورت بنا لیجیے داڑھی رکھ لیجیے شلوار قمیض پہن لیجئے جیسے اللہ کے نبی چلتے تھے ویسے چلنا شروع کر دیجیے جیسے اللہ کے نبی کھاتے تھے ویسے کھانا شروع کر دیجیے جیسے اللہ کے نبی دھیمے مزاج سے بولتے تھے ویسے بولنا شروع کر دیجیے جیسے وہ ہنستے تھے ویسے ہنسنا شروع کر دیجیے یعنی کہ ان کی ہر ہر سنت کو اپنا لیجیے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اللہ کے نبی کی سنت کے اندر صرف یہی طریقہ شامل ہیں۔  کیا کبھی اپ کو کسی نے یہ بتایا کہ اللہ کے نبی کی بات کرنے کی صلاحیت اور پریزنٹیشن سکلز بہترین تھیں۔ چاہے کسی بادشاہ سے بات کرنی ہو کسی ملک کے سفیر سے بات کرنی ہو یا اپنے کسی غریب صحابی سے بات کرنی ہے اللہ کے نبی کبھی ہچکچاہٹ نہیں محسوس کرتے ...

واقعہ کربلا اور بایسویں صدی

واقعہ کربلا میں نواسہ رسول کو شہید کر دیا گیا۔اسکی جتنی مزمت کی جاے کم ہےلیکن کیا صرف مزمت کر دینا کافی ہے۔ تاریخ اسلام کے اتنے بڑے واقعہ میں کیا مزمت کے سوا کچھ نہیں؟  مساجد میں ممبر سے ہر سال تقاریر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ مولا حسین اور سب گھر والوں پر پانی بند کر دیا گیا، ننھے بچوں کو شہید کر دیا گیا، نیزوں اور تیروں کا استعمال کیا گیا، شہدا کے سر تن سے جدا کر کے یزید کو پیش کیے گئے، خواتین سے عزت سے پیش نہیں آیا گیا- اسکے علاوہ اور بھی بہت سے مظالم کی داستاں موجود ہیں اور برحق ہیں۔ جس سے نہتے اہل بیت پر ہوۓ ظلم  پر دل دکھتا ہے اور خون کے آنسو بھی روتا ہے۔ اور سوشل میڈیا پر عاشورہ کے دن کی عبادات کرنے، نفلی روزہ رکھنے اور کھانے تقسیم کرنے کے بارے میں احادیث کو شیئر کیاجاتا ہے۔  یہ سب اپنی جگہ بلکل درست ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اتنی عظیم قربانی محض یہی معنی رکھتی ہے یا اس میں تربیت کا بھی کچھ سامان ہے؟ کربلا کے پیچھے اصل محرکات کو جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟ کیوں ممبر سے یہ نہیں بتایا جاتا کہ خلاف راشدہ کیسے ختم ہوی، کیسے یزید تخت نشین ہوا؟ کیسے صحابہ کے ز...

مجھے ہے حکم آذاں

 ‎علما کرام سے عرض ہے کہ یہ ملک ہے تو ہی آپ کے ممبر پر امن ہیں۔ یہ ملک نا رہا تو اپکو بڑی بڑی جذباتی تقریریں کرنے کے لیے کوی ٹھنڈے اے سی والی مسجد نہیں میسر آے گی۔  یقین نا آے تو کشمیر ، اور فلسطین میں دیکھ لیں۔ ‎اس ملک کی سالمیت اپ سے تقاضا کرتی ہے کہ حکمران چننے کے لیے اپنے معیار پر غور کریں۔اس قوم کا ایمان بدر کے تین سو تیرہ والا نہیں ہے کہ فرشتے مدد کو نازل ہوں گے۔ اگر اللہ نے اندھوں میں کانا راجا چننے کا موقع فراہم کیا ہے تو اس کو ضائع مت کریں۔  ‎اگر آج عمران خان کا ساتھ اپ اس لیے نہیں دے رہے کہ وہ اپک بے دین نظر اتا ہے تو میرے الفاظ یاد رکھیے گا کہ دین دار   حکمران کا جو میعار اپ نے سیٹ کر رکھا ہے قیامت تک وہ حکمران نہیں آے گا۔ ‎جو شخص کفار کے سب سے بڑے مرکز یو این او کے فلور پر بیٹھ کر یہ کہے کے جب کوی ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارا دل دکھتا ہے ایسے شخص سے اپ اس لیے مخالفت نہیں رکھ سکتے کہ اس کے منہ پر داڑھی نھیں وہ جوانی میں پلے بواے تھا یا اس کو  خاتم النبین کا لفظ اردو میں بولنا نھیں آتا۔ ‎خدارا ان مفروضوں پر مت چلیے کہ وہ یہودی ایجنٹ ہے ...

سیاست+عبادت=دین

 جو مدینہ میں ننگے پاوں چلا،  جس نے رحمت العالمین کانفرس کروای، جس نے اقوام متحدہ میں کھڑا ہو کر کہا کہ جب کوی ھمارے نبی کی شان میں غلط بات کرتا ہے تو ہمارا دل دکھتا ہے جس نے اسلاموفوبیا پر دنیا کہ سامنے مقدمہ لڑا جس نے مدینہ کی اسلامی ریاست کی طرز پر پاکستان کوبنامے کی بات کی اس پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے مذھب کی توہین کی۔ اگر اوپر بیان کیے ہوے کاموں کہ بعد بھی اس شخص سے توہین اسلام جیسے سخت ناپسندیدہ کام کی امید کی جا سکتی ہے تو پھر میرے اور اپکے ایمان پر بھی کسی دن ایسا ھی الزام لگایا جا سکتا ہے۔ یہ گستاخ اور بے ادب کے سرٹیفیکیٹ جب سے بٹنا شروع ہوے ھیں اس ملک میں کوی محفوظ نھیں ھے۔ پہلے تو اقلیتوں کو اس الزام کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا اب یہ چنگاری مسلمانوں کہ اپنے گھروں تک پہنچ گئ ہے۔ جو علما اج بھی اس چنگاری کو بھجانے کہ لیے کوی کردار ادا نھیں کررہے اور چپ چاپ تماشا دیکھ رہے ہیں وہ اس لمحہ کی فکر کریں جب یہ چنگاری شعلہ بن کر ان کے مرکزوں کا رخ کرے گی۔ ایسے مواقع پر دیندار لوگوں کی جانبداری دیکھ کر دل بہت دکھی ہوتا ہے۔ سیاسی مقاصد کہ لیے ایک شخص پر توہین مذہب کا ال...

امربلمعروف

 کن کاموں میں لگے ہو  بس جاو ماتھے ٹیکو عبادتیں کرو تمھارا کیا کام نظام کے ساتھ نا انصافی ہوتی رہے، ظالم حکمران بنتے رہیں، تم بس واقعہ کربلا پر ہر سال نوحہ کرتے رہو۔ تم کیوں امت کو یہ بتاتے ہو کہ امام نے تو ظالم حکمران کی بیعت کرنے سے انکار کیا تھا۔تم بھی سب کی طرح سال میں ایک بار غم حسین کیا کرو اور بس۔ تم کیوں یہ بتاتے ہو کہ امام کا پیغام تھا کہ جہاں حق باطل کا معرکہ ہو وہاں حق کہ ساتھ ڈت جاو۔ تم کیوں حکمت والے دین کو اپنانے کی بات کرتے ہو۔ تم بھی جزباتی تقریروں والا دین اپنا لو۔ تم کیوں یہ بتاتے پھرتے ہو کہ اس شخص کا ساتھ دو جو حضور کی ناموس کی حفاظت کے لیے کفار کی اسمبلی میں بیٹھ کر بات کرتا تھا تم بھی بس سڑکوں پر جلاو گھیراو کر کے ناموس رسالت کی بات کرنے والوں کی صف میں شامل ہو جاو۔ تم کیوں بتاتے پھرتے ہو کہ اس شخص کا ساتھ دینا ضروری تھا جو امر بالمعروف کی تشریح باقی سب ملاوں سے مختلف کرتا تھا۔ جو کہتا تھا کہ اگر حکمران بدنیت ہو وعدہ خلاف ہو کرپٹ ہو اسکا ساتھ نہ دو۔ یہ بھی امربلمعروف ہے۔ تم بھی امربلمعروف کی تشریح بس یہ کرو کہ کسی کو نماز کا کہہ دینا ہی امربلمعروف ہے۔ کسی...

اقامت دین

جب بھی دو لوگ ایک جگہ اکٹھے رہتے ہیں انہیں اپنے معاملات کے لیے کسی اصول کی ضرورت پڑتی ہے۔ جیسے میاں بیوی کی مثال لیں تو ایک گھر کی ذمہ داری پوری کرتا ہے تو دوسرا پارٹنر باھر کے کام کا ذمہ لیتا ہے۔ اور ایکدوسرے کا خیال رکھ کر وسائل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ امدنی کہ اندر دونوں برابر خرچہ کرتے ہیں۔ یہ نھی ہوتا کہ شوہر آمدنی میں سے خود اچھے کپڑے خرید لے اور پیچھے اتنے پیسے بھی نہ بچیں کہ عورت کھانا کھا سکے نہ ھی عورت اپنے بننے سورنے پر اتنے پیسے لگاتی کہ شوھر کہ لیے دوایاں خریدنے کہ پیسے نہ بچیں۔ اور نہ میاں بیوی وسائل کا ایسے استعمال کرتے ہیں کہ بچوں کہ لیے کچھ نہ بچے۔ اگر دونوں پارٹنرز میں سے ایک بھی دوسرے کا خیال کرنا بند کر دے تو وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم شروع ہو جاتی ہے اور انتشار پھیلنے لگتا ہے۔ اگر شوہر کو دوستوں کہ ساتھ آوٹنگ زیادہ اھم لگنے لگے اور گھر والوں کہ لیے بنیادی ضرورت کہ پیسے نہ بچیں تو پھر ایک بغاوت جنم لیتی ہے۔ اور انتہای کشیدگی کے عالم میں ہاتھا پائ اور پھر علحیدگی تک بات آ جاتی ہے۔ الغرض ذمہ داری کا تعین کر کے کچھ اصول بنا کر ذندگی گزاری جاتی ہے۔ بنا اصول کہ پر امن زن...

ناقابل برداشت

 اماں ایک بات بتاو کیا ہمارے نبی کے اصحاب جذباتی تھے- یہ سنتے ہی ثوبیہ کی ماں نے یکدم مڑ کر اسے دیکھا لیپٹوپ سایڈ پر رکھا اور بیٹی کی طرف متوجہ ہوی یہ کیسا سوال ہے ثوبیہ- اماں بتاو تو صحیح۔ ایسے سوال مت پوچھا کر۔ اماں بولی تو اپکے پاس بہی جواب نہیں کیا- میری مدرسے کی ٹیچر کے پاس بھی جواب نہیں تھا- جواب ہے میرے پاس لیکن تم پہلے بتاو تمہیں کیا لگتا ہے- ایسا سوال کیسے ایا دماغ میں  اماں نے کراس سوال کیا- اماں میں جب جب کسی عالم کو سنتی ہوں مجھے ایسے لگتا ہے جیسے سب صحابہ جذباتی تھے۔ وہ عقل کی بجاے جذبات سے فیصلہ کیا کرتے تھے-  کل طارق جمیل صاحب کا ایک موٹیویشنل بیان سنا- انہوں نے حضرت خالد بن ولید کے بارے میں کہا کہ وہ نبی کا بال اپنی ٹوپی میں رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے فتح اس نبی کہ مقدس بال کی برکت سے ہوتی ہے- اور پھر طارق جمیل نہ مذید کہا کہ یہ حضرت خالد کی نبی سے نسبت تھی کہ وہ کبھی کوی جنگ نہیں ہارے- اب دیکھو نہ اماں  ایسے بیان سے یہی پتہ لگا کہ حضرت خالد کو فتح انکی جنگی حکمت عملی انکی پلاننگ اور دوران جنگ بروقت درست فیصلوں کی بجاے بس نبی کہ بال کی نسبت سے خود...

اسے بچا لو

یہ اپنی مرضی سے نھی سوچتا، اس لیے گمراہ ہے یہ دشمنوں سے ملکر سوچتا ہے، اس لیے گمراہ ہے وہ جو پہلے اپنے انجام کو پہنچ گئے تھے یہ انکے نقش پر چلتا ہے، اس لیے گمراہ ہے اسے بتایا بھی تھا کے حق کا ساتھ دو مگر یہ اپنی ہی سنتا ہے،اس لیے گمراہ ہے یہ پوچھتا ہی نھی کے امن کیسے اے گا یہ امن کے دشمنوں سے ملتا ہے، اس لیے گمراہ ہے اسے یقین دلایا تھا کے ہم خیرخا ہیں تمہارے مگر یہ فریبی ہی چُنتا ہے،اس لیے گمراہ ہے سوال کرتا ہے دیوانہ ہماری محب وطنی پر یہ محب وطنوں سے جدا ہے،اس لیے گمراہ ہے

تنقید براے تنقید۔

 اس ملک کا ہر شخص اگر تنقید براے تنقید کی بجاے مخلصانہ راے دینا شروع کر دے تو شاید ریاست مدینہ کی بنیاد خود ہی ڈل جاے۔ مگر مجال ہے کہ مذہبی شخص کبھی لبرل بندے کی کسی صحیح بات کو صحیح کہہ دے یا کوی لبرل انسان کبھی مذھبی انسان کی اچھی بات کی تعریف کر دے۔ اقلیت کے ساتھ جب برا ہوتا ہے اور لبرل طبقہ انکی اواز بنتا ہےتو مذہبی لوگ یک ذبان ہو کر اسے اسلام کے خلاف سازش سمجھتے ہیں۔ ورک انوایرمنٹ میں خواتین کو ہراساں کرنے پر جب جائز  اواز اٹھتی ہے  تو شدیش مذھبی افراد کہتے ہیں کہ عورت گھر کی زینت ہے وہ باہر نکلے گی تو ایسا ہو گا اسے باہر مردوں کہ ساتھ کام نہیں کرنا چاہے۔  کچھ ایسی ہی مثال مذھب سے شدید بیزار پرویز صاحب کی ہے۔ انہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ ہر اس شخص کے خلاف لکھنا ہے جو مذھب سے لگاو رکھتا ہے۔ حیران مت ہویے۔ علامہ اقبال کی مخالفت میں انہوں نے پورے لیکچر دے رکھے ہیں جو میں خود سن چکا ہوں۔ عمران خان کی مخالفت میں یہ جتنا میڈیا میں دکھای دیتے ہیں اسکی وجہ بھی عمران کی مزھبی سوچ ہے۔ عمران جب بات کرتا ہے ریاست مدینہ کی تو اسکا مطلب یہ ھوتا ہے کہ ایسی ریاست جہاں عورت کا اس...

شدید مرد

اب تو کپڑے بھی پورے تھے۔ رات کا پہر بھی نھی تھا۔تنہای میں واک شاک بھی  نھی ھو رہی تھی۔کسی بواے فرینڈ کے ساتھ دہی بھلے بھی نھی کھا رھی تھی۔ گھر میں اکیلی بھی نھی تھی۔   چار سو لوگوں کے بیچ ایک عورت اگر مھفوظ نھی تو یقین جانیے کب کس کی بہن بیٹی ایسے مینار پاکستان پر اچھال دی جاے کوی نہی جانتا۔ اب تو بس یے رہ گیا ھے کے خواتین خود کش جیکٹ پہن کر باھر نکلا کریں بلکہ شاید باھر نھی گھر کے اندر بھی ایسے ھی تیار بیٹھی رھیں کیا پتہ کب ضرورت پڑ جاے۔عورت کے لیے مرد کی طبیعت میں پای جانےُوالی علاقائ خاندانی اور قبائلی سو کالڈ غیرت کو مذھب سے الگ کیا جانا اب نا گزیر ھو گیا ھے۔ ھونا تو یے چاھیے گھر کا مرد اور عورت اپنے بیٹوں کو پوچھے کے تم مینار پاکستان پر تھے اور اس ظلم کو کیوں نہ روک سکے۔ اور تسلی بخش جواب نا ملنے پر انھیں خود الٹا لٹکایں۔  اور قوم کو پیغام دیں کے ھماری یوتھ تو بگڑی ھوی ھے لیکن ابھی اولڈ جنریشن میں سینس باقی ھے۔ تا کے پیغام جاے کے ھاں ابھی معاشرے میں اچھے لوگ ھیں۔لیکن کیا کہیے اس قوم کا جس کا بچہ، جوان،اور بوڑھا سب ھی شدید مرد ھیں۔ مینار پاکستان پر موجود ان شدید مردوں...

پورا بٹیر

 انگریزی سیکھ لو کیونکہ دنیا کے  ساتھ چلنا ھے اور دنیا کی سپر پاور یہ بھاشا بولتی ھے  اور سارا لٹریچر اسی زبان میں ھے۔کوی اسکو اجکل بکنے والا چورن کہتا ھے تو کوی ماڈرن دنیا کا تقاضا۔   لیکن جب یہ تقاضا کیا جائے کے عربی سیکھ لو تا کے قرآن سمجھ آ سکے اور تھوڑے ٹائم میں زیادہ احکامات پڑھے جا سکیں تو اعتراض کرتے ہیں کے اسکی کیا ضرورت۔ یہ ہماری زبان نہیں۔ عربیوں کی زبان ہے۔  اور کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں جب انگریزی کو سرکاری سکولوں میں  زبردستی نافذ کیا گیا تو انگریزی سے پیار کرنے والے خود کو ٹیکنیکل سمجھنے والے کسی دوست نے اعتراض نھی کیا- حالانکہ وہ کۂہ سکتے تھے کے قومیں اپنی قومی مادری زبانوں میں ترقی کرتی ھیں۔ جب جب پاکستان میں مذھبئ طبقہ کسی بات پر شدت دکھاتا ھے تو ھمارے نیم مذھبی دوست کہتے ھیں کے دین چند مولویوں کے ھاتھ میں تھما رکھا ھے اس  لیے معاشرہ میں یہ شدت پسندی ھے ھر بندے کو چاھیے خود دین پڑھے اور عمل کرے ھمارا دین تو بھت اسان ھے۔ لیکن دین پڑھنے کے لیے پہلا سورس قرآن ہے۔ اور وہ اس لیے سمجھ نہیں آتا کیوں کے عربی نہیں اتی۔ اچھا اب سوال یے ھے کے ان...

کی ‏میرے ‏قتل ‏کے ‏بعد ‏اُسنے ‏جفا ‏سے ‏توبہ

Image
دنیا میں کسی بھی انسان کا نا حق خون بھے اور آپکے دل میں مظلوم کے لیے ہمدردی پیدا نہ ہو تو یہ باعث ندامت بات ہے۔ وہ خون چاہے آپکے مذہب سے مماثلت رکھتے کسی انسان کا ہو یا آپکے مخالف کسی منکر خدا کا۔ ظلم اور بربریت کی وجہ سے بہایا گیا خون ہر انسان سے مطالبہ کرتا ہے کے اسکے حق میں آواز اٹھائی جائے۔ یہ آواز ہر انسان کی استطاعت کے مطابق ہونی چاہئے۔ اگر آپ کسی ملک کے سر براہ ہیں اور یہ اخیتار رکھتے ہیں کے طاقت کے ذریعے ظالم کو روکیں تو آپکا فرض بنتا ہے کے اپنا پارٹ پلے کریں۔ اگر آپ کا اپنا ملک کمزور ہے تو ظلم کے خلاف عالمی رہنماؤں کو ساتھ ملا کر ظالم کو روکنے کے کوشش کریں۔ اگر آپ کوئی کاروباری شخصیت ہیں اور اللہ نے آپکو بہت مال سے نوازا ہے تو مظلوم کے لیے اپنا پیسہ خرچ کریں۔ اگر آپ میڈیا چینل کے مالک ہیں تو ظالم کے خلاف آواز بن کے پوری دنیا کو آگاہ کر دیں۔  اگر آپ کو دنیا آپکی قابلیت کی وجہ سے جانتی ہے آپ علم کی دنیا میں اپنی فیلڈ کے بادشاہ ہیں تو انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر تجزیہ اور کانفرنس کر کے مظلوم کا ساتھ دے دیں۔ اور اگر دنیا میں آپکو نوبل انعام یافتہ سمجھا جاتا ہے اور آپ کے...

ریپ ‏ہوتا ‏نہیں، ‏ریپ ‏پلتا ‏ہے

 کیا پاکستان میں جنسی زیادتی کی وجہ فہاشی ہے؟  اس جملے کی مخالفت کرنے والی عوام الناس کا موقف ہوتا ہے کے ترکی یورپ امریکا میں کونسا ریاست کی سطح پر مذہب نافذ ہے تو وہاں کیوں کوئی کسی دوسرے کی عزت پر حوس کی نظر نہیں ڈالتا۔ وہاں لباس کی کوئی قید نہیں۔ مختصر لباس پہن کر بھی عزتیں محفوظ ہیں۔ یہ دلیل اپنی جگہ بلکل صحیح اور سمجھ آنے والی ہے۔لیکن کچھ ادھوری ہے۔ جہاں آپکو مختصر لباس میں عزتیں محفوظ نظر آئیں وہاں آپکو یہ کیوں نہیں دکھا کے اُن ممالک میں شادی کی قیدو بند ہمارے معاشرے کی طرح نہیں۔ وہاں بلوغت کی عمر کے بعد جنسی جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کسی کو کیریئر بنانے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ وہاں اگر آپ کسی کو بتائیں کے تیس سال کی عمر تک آپ نے کبھی سیکس نہیں کیا۔سیکس تو دور کی بات یوں کہیں کے کسی لڑکے لڑکی کو ہاتھ تک نہیں لگایا تو یا تو وہ آپکو سر سے پاؤں تک گھور کر دیکھے گا کے گویا آپ جیسا بیوقوف کوئی نہیں جو اس قربت سے خد کو محروم رکھیے ہوئے ہے یا ایک ہی لمحے میں آپکے قدموں میں گر کر آپکا مرید ہو جائے گا کے جیسے آپ جیسا سخت انسان دنیا میں کوئی نہیں۔ اُن ممالک میں سیکس کو ای...

ہائے ‏ہائے ‏عربی

Image
انگریزی سیکھ لو کیونکہ دنیا کے  ساتھ چلنا ھے اور دنیا کی سپر پاور یہ بھاشا بولتی ھے۔   یے موقف اکثر سننے کو ملتا  ھے۔ ملک کا بہت زیادہ پڑھا لکھا طبقہ اکثر اس کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔  دوسری طرف ایک طبقہ ہے جو شاید کم روشن خیال تصور کیا جاتا ہے جو انگریزی کو محض ایک زبان سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔اور انکی طرف سے کہا جاتا ہے کے کل کو چائنا سپر پاور بن گیا تو کیا ہم چائنیز سیکھنے پر لگ جائیں۔ اس لیے قوم کو اپنا تشخص برقرار رکھنا چاہئے اور انگریزی کو محض ایک زبان کے طور پر پڑھیں اور ضرورت جتنی سیکھیں اور بولیں. یہ دونوں دلیل اپنی جگہ سچ ہیں۔ ہر انسان کی انفرادی سوچ ہے لہٰذا اس طرح کا اختلاف رکھنا کوئی بری بات نہیں. لیکن انسان کا چیزوں کو پرکھنے کا معیار ایک جیسا ہونا چاہئے. ابھی پاکستان میں بچوں کو عربی زبان پڑھانے کا بل پاس ھوا تو انگریزی سے لگاؤ رکھنے والے  طبقہ کی طرف سے تنقید کے نشتر چل نکلے۔اس کی مخالفت میں طرح طرح کی منطق پیش کی گئی۔ کہا گیا کہ قومیں ایسے ترقی نہیں کرتیں۔عربی جن کی زبان ہے وہ کونسا عربی کی وجہ سے بہتر مسلمان بن گئے۔  ...

‎خود ‏شناسی

Image
خود آگاہی کے راستے پر چل نکلنے والے کو اپنی زندگی میں پیش انے والے سب مسائل کا ادراک، اُنکی وجہ، اور اُن مسایل سے نکلنے کا حل پتہ ہوتا ہے۔ اب آگلی منزل ہوتی ہے عمل کی۔ طریقہ کار کی۔ آغاز کرنے کی۔  یہ اصل مشکل مرحلہ ہے۔  اسکی مثال ایسے ہے جیسے کسی کو اُسکی جسمانی بیماری کی وجہ پتہ لگ جائے، دوائی خرید کر لے ائے اور اُسے فریج میں لا کر رکھ دے اور پھر بیڈ پر لیٹ جائے۔ اب جب تک خود اٹھ کے دوائی کو اسکے مقرر کیے ہوئے وقت پر نھی کھائے گا ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ اور بیماری کی شدّت بیڈ سے اٹھنے نھی دیتی۔ اسی طرح خود آگاہی کی مثال ہے۔ خود آگاہی کے عمل سے پتہ لگ گیا کے زندگی میں وقت کا ضیاع ایسی بیماری ہے جسکی وجہ سے زندگی میں سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ معلومات میں اضافہ نھی ہوتا۔ غیر ضروری سرگرمیوں کی وجہ سے نئی نئی کارآمد چیزیں نھی سیکھ پاتے۔ مزید تحقیق کی تو پتہ لگا کے اسکا علاج ہے کے  زندگی سے انرجی ڈرین کرنے ولی سرگرمیاں ختم کی جائیں۔ فیسبوک پر بحث مباحثہ ختم کیا جائے۔  یوٹیوب پر وقت کو ضائع کرنے والی انٹرٹنمںٹ ویڈیو دیکھنا ختم کیا جائے۔ کوئی کتاب پڑھنی شروع کی جائے۔...

یقین ‏کامل

Image
زندگی میں مایوسی سی بچانے والی جہاں بےپناہ چیزیں ہیں وہاں ایک اللہ کی طرف سے معجزہ ہونے پر یقین رکھنا ہے۔ بلکہ یوں کہیں خالی یقین نہیں یقین کامل ہونا ہے۔ انسان محنتی ہے۔ محنت کرتا ہے۔ کبھی نتائج اچھے ملتے ہیں کبھی ناکامی ہوتی ہے۔ یہ نارمل عمل ہے۔ مایوسی وہاں اتی ہے جب انسان ہر محنت کے عوض صرف کامیابی ہی فرض کر لیتا ہے۔  حالاں کہ ہماری ناکامی جہاں ایک طرف ہمیں سبق دیتی ہے وہیں دوسروں کے لیے بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ زندگی میں اگر دوسروں کی مثالیں نہ ہوں تو شاید انسان کے لیے سیکھنے کا عمل بہت سُست ہو جائے۔  جب بھی کسی کام کو کرنے کا خیال اتا ہے تو انسان اس کے اچھے برے نتائج سوچتا ہے۔ کس نے کیسے اس کام کو کرنے کی کوشش کی وہ کیوں ناکام ہوا یا اُسے کیوں فائدہ ہوا۔ یہ سب تجربے ہمیں سیکھنے کا موقع اور کامیاب ہونے کا ہنر بتاتے ہیں۔ جب زندگی میں سب اچھا چلنے لگے تو انسان کی زبان پر شکر کا ترانہ بنا چاہئے۔ اور ناکامی کی صورت میں توکل کا۔ یہ بڑا اہم موڑ ہے۔ ناکامی کی صورت میں اگر زبان پر شکوے آ گئے کے میں نے تو محنت کی تھی پتہ نھی کیوں نھی کاروبار چلا، پتہ نہی...