Posts

اقامت دین

جب بھی دو لوگ ایک جگہ اکٹھے رہتے ہیں انہیں اپنے معاملات کے لیے کسی اصول کی ضرورت پڑتی ہے۔ جیسے میاں بیوی کی مثال لیں تو ایک گھر کی ذمہ داری پوری کرتا ہے تو دوسرا پارٹنر باھر کے کام کا ذمہ لیتا ہے۔ اور ایکدوسرے کا خیال رکھ کر وسائل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ امدنی کہ اندر دونوں برابر خرچہ کرتے ہیں۔ یہ نھی ہوتا کہ شوہر آمدنی میں سے خود اچھے کپڑے خرید لے اور پیچھے اتنے پیسے بھی نہ بچیں کہ عورت کھانا کھا سکے نہ ھی عورت اپنے بننے سورنے پر اتنے پیسے لگاتی کہ شوھر کہ لیے دوایاں خریدنے کہ پیسے نہ بچیں۔ اور نہ میاں بیوی وسائل کا ایسے استعمال کرتے ہیں کہ بچوں کہ لیے کچھ نہ بچے۔ اگر دونوں پارٹنرز میں سے ایک بھی دوسرے کا خیال کرنا بند کر دے تو وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم شروع ہو جاتی ہے اور انتشار پھیلنے لگتا ہے۔ اگر شوہر کو دوستوں کہ ساتھ آوٹنگ زیادہ اھم لگنے لگے اور گھر والوں کہ لیے بنیادی ضرورت کہ پیسے نہ بچیں تو پھر ایک بغاوت جنم لیتی ہے۔ اور انتہای کشیدگی کے عالم میں ہاتھا پائ اور پھر علحیدگی تک بات آ جاتی ہے۔ الغرض ذمہ داری کا تعین کر کے کچھ اصول بنا کر ذندگی گزاری جاتی ہے۔ بنا اصول کہ پر امن زن...

ناقابل برداشت

 اماں ایک بات بتاو کیا ہمارے نبی کے اصحاب جذباتی تھے- یہ سنتے ہی ثوبیہ کی ماں نے یکدم مڑ کر اسے دیکھا لیپٹوپ سایڈ پر رکھا اور بیٹی کی طرف متوجہ ہوی یہ کیسا سوال ہے ثوبیہ- اماں بتاو تو صحیح۔ ایسے سوال مت پوچھا کر۔ اماں بولی تو اپکے پاس بہی جواب نہیں کیا- میری مدرسے کی ٹیچر کے پاس بھی جواب نہیں تھا- جواب ہے میرے پاس لیکن تم پہلے بتاو تمہیں کیا لگتا ہے- ایسا سوال کیسے ایا دماغ میں  اماں نے کراس سوال کیا- اماں میں جب جب کسی عالم کو سنتی ہوں مجھے ایسے لگتا ہے جیسے سب صحابہ جذباتی تھے۔ وہ عقل کی بجاے جذبات سے فیصلہ کیا کرتے تھے-  کل طارق جمیل صاحب کا ایک موٹیویشنل بیان سنا- انہوں نے حضرت خالد بن ولید کے بارے میں کہا کہ وہ نبی کا بال اپنی ٹوپی میں رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے فتح اس نبی کہ مقدس بال کی برکت سے ہوتی ہے- اور پھر طارق جمیل نہ مذید کہا کہ یہ حضرت خالد کی نبی سے نسبت تھی کہ وہ کبھی کوی جنگ نہیں ہارے- اب دیکھو نہ اماں  ایسے بیان سے یہی پتہ لگا کہ حضرت خالد کو فتح انکی جنگی حکمت عملی انکی پلاننگ اور دوران جنگ بروقت درست فیصلوں کی بجاے بس نبی کہ بال کی نسبت سے خود...

اسے بچا لو

یہ اپنی مرضی سے نھی سوچتا، اس لیے گمراہ ہے یہ دشمنوں سے ملکر سوچتا ہے، اس لیے گمراہ ہے وہ جو پہلے اپنے انجام کو پہنچ گئے تھے یہ انکے نقش پر چلتا ہے، اس لیے گمراہ ہے اسے بتایا بھی تھا کے حق کا ساتھ دو مگر یہ اپنی ہی سنتا ہے،اس لیے گمراہ ہے یہ پوچھتا ہی نھی کے امن کیسے اے گا یہ امن کے دشمنوں سے ملتا ہے، اس لیے گمراہ ہے اسے یقین دلایا تھا کے ہم خیرخا ہیں تمہارے مگر یہ فریبی ہی چُنتا ہے،اس لیے گمراہ ہے سوال کرتا ہے دیوانہ ہماری محب وطنی پر یہ محب وطنوں سے جدا ہے،اس لیے گمراہ ہے

تنقید براے تنقید۔

 اس ملک کا ہر شخص اگر تنقید براے تنقید کی بجاے مخلصانہ راے دینا شروع کر دے تو شاید ریاست مدینہ کی بنیاد خود ہی ڈل جاے۔ مگر مجال ہے کہ مذہبی شخص کبھی لبرل بندے کی کسی صحیح بات کو صحیح کہہ دے یا کوی لبرل انسان کبھی مذھبی انسان کی اچھی بات کی تعریف کر دے۔ اقلیت کے ساتھ جب برا ہوتا ہے اور لبرل طبقہ انکی اواز بنتا ہےتو مذہبی لوگ یک ذبان ہو کر اسے اسلام کے خلاف سازش سمجھتے ہیں۔ ورک انوایرمنٹ میں خواتین کو ہراساں کرنے پر جب جائز  اواز اٹھتی ہے  تو شدیش مذھبی افراد کہتے ہیں کہ عورت گھر کی زینت ہے وہ باہر نکلے گی تو ایسا ہو گا اسے باہر مردوں کہ ساتھ کام نہیں کرنا چاہے۔  کچھ ایسی ہی مثال مذھب سے شدید بیزار پرویز صاحب کی ہے۔ انہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ ہر اس شخص کے خلاف لکھنا ہے جو مذھب سے لگاو رکھتا ہے۔ حیران مت ہویے۔ علامہ اقبال کی مخالفت میں انہوں نے پورے لیکچر دے رکھے ہیں جو میں خود سن چکا ہوں۔ عمران خان کی مخالفت میں یہ جتنا میڈیا میں دکھای دیتے ہیں اسکی وجہ بھی عمران کی مزھبی سوچ ہے۔ عمران جب بات کرتا ہے ریاست مدینہ کی تو اسکا مطلب یہ ھوتا ہے کہ ایسی ریاست جہاں عورت کا اس...

شدید مرد

اب تو کپڑے بھی پورے تھے۔ رات کا پہر بھی نھی تھا۔تنہای میں واک شاک بھی  نھی ھو رہی تھی۔کسی بواے فرینڈ کے ساتھ دہی بھلے بھی نھی کھا رھی تھی۔ گھر میں اکیلی بھی نھی تھی۔   چار سو لوگوں کے بیچ ایک عورت اگر مھفوظ نھی تو یقین جانیے کب کس کی بہن بیٹی ایسے مینار پاکستان پر اچھال دی جاے کوی نہی جانتا۔ اب تو بس یے رہ گیا ھے کے خواتین خود کش جیکٹ پہن کر باھر نکلا کریں بلکہ شاید باھر نھی گھر کے اندر بھی ایسے ھی تیار بیٹھی رھیں کیا پتہ کب ضرورت پڑ جاے۔عورت کے لیے مرد کی طبیعت میں پای جانےُوالی علاقائ خاندانی اور قبائلی سو کالڈ غیرت کو مذھب سے الگ کیا جانا اب نا گزیر ھو گیا ھے۔ ھونا تو یے چاھیے گھر کا مرد اور عورت اپنے بیٹوں کو پوچھے کے تم مینار پاکستان پر تھے اور اس ظلم کو کیوں نہ روک سکے۔ اور تسلی بخش جواب نا ملنے پر انھیں خود الٹا لٹکایں۔  اور قوم کو پیغام دیں کے ھماری یوتھ تو بگڑی ھوی ھے لیکن ابھی اولڈ جنریشن میں سینس باقی ھے۔ تا کے پیغام جاے کے ھاں ابھی معاشرے میں اچھے لوگ ھیں۔لیکن کیا کہیے اس قوم کا جس کا بچہ، جوان،اور بوڑھا سب ھی شدید مرد ھیں۔ مینار پاکستان پر موجود ان شدید مردوں...

پورا بٹیر

 انگریزی سیکھ لو کیونکہ دنیا کے  ساتھ چلنا ھے اور دنیا کی سپر پاور یہ بھاشا بولتی ھے  اور سارا لٹریچر اسی زبان میں ھے۔کوی اسکو اجکل بکنے والا چورن کہتا ھے تو کوی ماڈرن دنیا کا تقاضا۔   لیکن جب یہ تقاضا کیا جائے کے عربی سیکھ لو تا کے قرآن سمجھ آ سکے اور تھوڑے ٹائم میں زیادہ احکامات پڑھے جا سکیں تو اعتراض کرتے ہیں کے اسکی کیا ضرورت۔ یہ ہماری زبان نہیں۔ عربیوں کی زبان ہے۔  اور کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں جب انگریزی کو سرکاری سکولوں میں  زبردستی نافذ کیا گیا تو انگریزی سے پیار کرنے والے خود کو ٹیکنیکل سمجھنے والے کسی دوست نے اعتراض نھی کیا- حالانکہ وہ کۂہ سکتے تھے کے قومیں اپنی قومی مادری زبانوں میں ترقی کرتی ھیں۔ جب جب پاکستان میں مذھبئ طبقہ کسی بات پر شدت دکھاتا ھے تو ھمارے نیم مذھبی دوست کہتے ھیں کے دین چند مولویوں کے ھاتھ میں تھما رکھا ھے اس  لیے معاشرہ میں یہ شدت پسندی ھے ھر بندے کو چاھیے خود دین پڑھے اور عمل کرے ھمارا دین تو بھت اسان ھے۔ لیکن دین پڑھنے کے لیے پہلا سورس قرآن ہے۔ اور وہ اس لیے سمجھ نہیں آتا کیوں کے عربی نہیں اتی۔ اچھا اب سوال یے ھے کے ان...

کی ‏میرے ‏قتل ‏کے ‏بعد ‏اُسنے ‏جفا ‏سے ‏توبہ

Image
دنیا میں کسی بھی انسان کا نا حق خون بھے اور آپکے دل میں مظلوم کے لیے ہمدردی پیدا نہ ہو تو یہ باعث ندامت بات ہے۔ وہ خون چاہے آپکے مذہب سے مماثلت رکھتے کسی انسان کا ہو یا آپکے مخالف کسی منکر خدا کا۔ ظلم اور بربریت کی وجہ سے بہایا گیا خون ہر انسان سے مطالبہ کرتا ہے کے اسکے حق میں آواز اٹھائی جائے۔ یہ آواز ہر انسان کی استطاعت کے مطابق ہونی چاہئے۔ اگر آپ کسی ملک کے سر براہ ہیں اور یہ اخیتار رکھتے ہیں کے طاقت کے ذریعے ظالم کو روکیں تو آپکا فرض بنتا ہے کے اپنا پارٹ پلے کریں۔ اگر آپ کا اپنا ملک کمزور ہے تو ظلم کے خلاف عالمی رہنماؤں کو ساتھ ملا کر ظالم کو روکنے کے کوشش کریں۔ اگر آپ کوئی کاروباری شخصیت ہیں اور اللہ نے آپکو بہت مال سے نوازا ہے تو مظلوم کے لیے اپنا پیسہ خرچ کریں۔ اگر آپ میڈیا چینل کے مالک ہیں تو ظالم کے خلاف آواز بن کے پوری دنیا کو آگاہ کر دیں۔  اگر آپ کو دنیا آپکی قابلیت کی وجہ سے جانتی ہے آپ علم کی دنیا میں اپنی فیلڈ کے بادشاہ ہیں تو انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر تجزیہ اور کانفرنس کر کے مظلوم کا ساتھ دے دیں۔ اور اگر دنیا میں آپکو نوبل انعام یافتہ سمجھا جاتا ہے اور آپ کے...