Posts

شدید مرد

اب تو کپڑے بھی پورے تھے۔ رات کا پہر بھی نھی تھا۔تنہای میں واک شاک بھی  نھی ھو رہی تھی۔کسی بواے فرینڈ کے ساتھ دہی بھلے بھی نھی کھا رھی تھی۔ گھر میں اکیلی بھی نھی تھی۔   چار سو لوگوں کے بیچ ایک عورت اگر مھفوظ نھی تو یقین جانیے کب کس کی بہن بیٹی ایسے مینار پاکستان پر اچھال دی جاے کوی نہی جانتا۔ اب تو بس یے رہ گیا ھے کے خواتین خود کش جیکٹ پہن کر باھر نکلا کریں بلکہ شاید باھر نھی گھر کے اندر بھی ایسے ھی تیار بیٹھی رھیں کیا پتہ کب ضرورت پڑ جاے۔عورت کے لیے مرد کی طبیعت میں پای جانےُوالی علاقائ خاندانی اور قبائلی سو کالڈ غیرت کو مذھب سے الگ کیا جانا اب نا گزیر ھو گیا ھے۔ ھونا تو یے چاھیے گھر کا مرد اور عورت اپنے بیٹوں کو پوچھے کے تم مینار پاکستان پر تھے اور اس ظلم کو کیوں نہ روک سکے۔ اور تسلی بخش جواب نا ملنے پر انھیں خود الٹا لٹکایں۔  اور قوم کو پیغام دیں کے ھماری یوتھ تو بگڑی ھوی ھے لیکن ابھی اولڈ جنریشن میں سینس باقی ھے۔ تا کے پیغام جاے کے ھاں ابھی معاشرے میں اچھے لوگ ھیں۔لیکن کیا کہیے اس قوم کا جس کا بچہ، جوان،اور بوڑھا سب ھی شدید مرد ھیں۔ مینار پاکستان پر موجود ان شدید مردوں...

پورا بٹیر

 انگریزی سیکھ لو کیونکہ دنیا کے  ساتھ چلنا ھے اور دنیا کی سپر پاور یہ بھاشا بولتی ھے  اور سارا لٹریچر اسی زبان میں ھے۔کوی اسکو اجکل بکنے والا چورن کہتا ھے تو کوی ماڈرن دنیا کا تقاضا۔   لیکن جب یہ تقاضا کیا جائے کے عربی سیکھ لو تا کے قرآن سمجھ آ سکے اور تھوڑے ٹائم میں زیادہ احکامات پڑھے جا سکیں تو اعتراض کرتے ہیں کے اسکی کیا ضرورت۔ یہ ہماری زبان نہیں۔ عربیوں کی زبان ہے۔  اور کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں جب انگریزی کو سرکاری سکولوں میں  زبردستی نافذ کیا گیا تو انگریزی سے پیار کرنے والے خود کو ٹیکنیکل سمجھنے والے کسی دوست نے اعتراض نھی کیا- حالانکہ وہ کۂہ سکتے تھے کے قومیں اپنی قومی مادری زبانوں میں ترقی کرتی ھیں۔ جب جب پاکستان میں مذھبئ طبقہ کسی بات پر شدت دکھاتا ھے تو ھمارے نیم مذھبی دوست کہتے ھیں کے دین چند مولویوں کے ھاتھ میں تھما رکھا ھے اس  لیے معاشرہ میں یہ شدت پسندی ھے ھر بندے کو چاھیے خود دین پڑھے اور عمل کرے ھمارا دین تو بھت اسان ھے۔ لیکن دین پڑھنے کے لیے پہلا سورس قرآن ہے۔ اور وہ اس لیے سمجھ نہیں آتا کیوں کے عربی نہیں اتی۔ اچھا اب سوال یے ھے کے ان...

کی ‏میرے ‏قتل ‏کے ‏بعد ‏اُسنے ‏جفا ‏سے ‏توبہ

Image
دنیا میں کسی بھی انسان کا نا حق خون بھے اور آپکے دل میں مظلوم کے لیے ہمدردی پیدا نہ ہو تو یہ باعث ندامت بات ہے۔ وہ خون چاہے آپکے مذہب سے مماثلت رکھتے کسی انسان کا ہو یا آپکے مخالف کسی منکر خدا کا۔ ظلم اور بربریت کی وجہ سے بہایا گیا خون ہر انسان سے مطالبہ کرتا ہے کے اسکے حق میں آواز اٹھائی جائے۔ یہ آواز ہر انسان کی استطاعت کے مطابق ہونی چاہئے۔ اگر آپ کسی ملک کے سر براہ ہیں اور یہ اخیتار رکھتے ہیں کے طاقت کے ذریعے ظالم کو روکیں تو آپکا فرض بنتا ہے کے اپنا پارٹ پلے کریں۔ اگر آپ کا اپنا ملک کمزور ہے تو ظلم کے خلاف عالمی رہنماؤں کو ساتھ ملا کر ظالم کو روکنے کے کوشش کریں۔ اگر آپ کوئی کاروباری شخصیت ہیں اور اللہ نے آپکو بہت مال سے نوازا ہے تو مظلوم کے لیے اپنا پیسہ خرچ کریں۔ اگر آپ میڈیا چینل کے مالک ہیں تو ظالم کے خلاف آواز بن کے پوری دنیا کو آگاہ کر دیں۔  اگر آپ کو دنیا آپکی قابلیت کی وجہ سے جانتی ہے آپ علم کی دنیا میں اپنی فیلڈ کے بادشاہ ہیں تو انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر تجزیہ اور کانفرنس کر کے مظلوم کا ساتھ دے دیں۔ اور اگر دنیا میں آپکو نوبل انعام یافتہ سمجھا جاتا ہے اور آپ کے...

ریپ ‏ہوتا ‏نہیں، ‏ریپ ‏پلتا ‏ہے

 کیا پاکستان میں جنسی زیادتی کی وجہ فہاشی ہے؟  اس جملے کی مخالفت کرنے والی عوام الناس کا موقف ہوتا ہے کے ترکی یورپ امریکا میں کونسا ریاست کی سطح پر مذہب نافذ ہے تو وہاں کیوں کوئی کسی دوسرے کی عزت پر حوس کی نظر نہیں ڈالتا۔ وہاں لباس کی کوئی قید نہیں۔ مختصر لباس پہن کر بھی عزتیں محفوظ ہیں۔ یہ دلیل اپنی جگہ بلکل صحیح اور سمجھ آنے والی ہے۔لیکن کچھ ادھوری ہے۔ جہاں آپکو مختصر لباس میں عزتیں محفوظ نظر آئیں وہاں آپکو یہ کیوں نہیں دکھا کے اُن ممالک میں شادی کی قیدو بند ہمارے معاشرے کی طرح نہیں۔ وہاں بلوغت کی عمر کے بعد جنسی جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کسی کو کیریئر بنانے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ وہاں اگر آپ کسی کو بتائیں کے تیس سال کی عمر تک آپ نے کبھی سیکس نہیں کیا۔سیکس تو دور کی بات یوں کہیں کے کسی لڑکے لڑکی کو ہاتھ تک نہیں لگایا تو یا تو وہ آپکو سر سے پاؤں تک گھور کر دیکھے گا کے گویا آپ جیسا بیوقوف کوئی نہیں جو اس قربت سے خد کو محروم رکھیے ہوئے ہے یا ایک ہی لمحے میں آپکے قدموں میں گر کر آپکا مرید ہو جائے گا کے جیسے آپ جیسا سخت انسان دنیا میں کوئی نہیں۔ اُن ممالک میں سیکس کو ای...

ہائے ‏ہائے ‏عربی

Image
انگریزی سیکھ لو کیونکہ دنیا کے  ساتھ چلنا ھے اور دنیا کی سپر پاور یہ بھاشا بولتی ھے۔   یے موقف اکثر سننے کو ملتا  ھے۔ ملک کا بہت زیادہ پڑھا لکھا طبقہ اکثر اس کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔  دوسری طرف ایک طبقہ ہے جو شاید کم روشن خیال تصور کیا جاتا ہے جو انگریزی کو محض ایک زبان سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔اور انکی طرف سے کہا جاتا ہے کے کل کو چائنا سپر پاور بن گیا تو کیا ہم چائنیز سیکھنے پر لگ جائیں۔ اس لیے قوم کو اپنا تشخص برقرار رکھنا چاہئے اور انگریزی کو محض ایک زبان کے طور پر پڑھیں اور ضرورت جتنی سیکھیں اور بولیں. یہ دونوں دلیل اپنی جگہ سچ ہیں۔ ہر انسان کی انفرادی سوچ ہے لہٰذا اس طرح کا اختلاف رکھنا کوئی بری بات نہیں. لیکن انسان کا چیزوں کو پرکھنے کا معیار ایک جیسا ہونا چاہئے. ابھی پاکستان میں بچوں کو عربی زبان پڑھانے کا بل پاس ھوا تو انگریزی سے لگاؤ رکھنے والے  طبقہ کی طرف سے تنقید کے نشتر چل نکلے۔اس کی مخالفت میں طرح طرح کی منطق پیش کی گئی۔ کہا گیا کہ قومیں ایسے ترقی نہیں کرتیں۔عربی جن کی زبان ہے وہ کونسا عربی کی وجہ سے بہتر مسلمان بن گئے۔  ...

‎خود ‏شناسی

Image
خود آگاہی کے راستے پر چل نکلنے والے کو اپنی زندگی میں پیش انے والے سب مسائل کا ادراک، اُنکی وجہ، اور اُن مسایل سے نکلنے کا حل پتہ ہوتا ہے۔ اب آگلی منزل ہوتی ہے عمل کی۔ طریقہ کار کی۔ آغاز کرنے کی۔  یہ اصل مشکل مرحلہ ہے۔  اسکی مثال ایسے ہے جیسے کسی کو اُسکی جسمانی بیماری کی وجہ پتہ لگ جائے، دوائی خرید کر لے ائے اور اُسے فریج میں لا کر رکھ دے اور پھر بیڈ پر لیٹ جائے۔ اب جب تک خود اٹھ کے دوائی کو اسکے مقرر کیے ہوئے وقت پر نھی کھائے گا ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ اور بیماری کی شدّت بیڈ سے اٹھنے نھی دیتی۔ اسی طرح خود آگاہی کی مثال ہے۔ خود آگاہی کے عمل سے پتہ لگ گیا کے زندگی میں وقت کا ضیاع ایسی بیماری ہے جسکی وجہ سے زندگی میں سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ معلومات میں اضافہ نھی ہوتا۔ غیر ضروری سرگرمیوں کی وجہ سے نئی نئی کارآمد چیزیں نھی سیکھ پاتے۔ مزید تحقیق کی تو پتہ لگا کے اسکا علاج ہے کے  زندگی سے انرجی ڈرین کرنے ولی سرگرمیاں ختم کی جائیں۔ فیسبوک پر بحث مباحثہ ختم کیا جائے۔  یوٹیوب پر وقت کو ضائع کرنے والی انٹرٹنمںٹ ویڈیو دیکھنا ختم کیا جائے۔ کوئی کتاب پڑھنی شروع کی جائے۔...

یقین ‏کامل

Image
زندگی میں مایوسی سی بچانے والی جہاں بےپناہ چیزیں ہیں وہاں ایک اللہ کی طرف سے معجزہ ہونے پر یقین رکھنا ہے۔ بلکہ یوں کہیں خالی یقین نہیں یقین کامل ہونا ہے۔ انسان محنتی ہے۔ محنت کرتا ہے۔ کبھی نتائج اچھے ملتے ہیں کبھی ناکامی ہوتی ہے۔ یہ نارمل عمل ہے۔ مایوسی وہاں اتی ہے جب انسان ہر محنت کے عوض صرف کامیابی ہی فرض کر لیتا ہے۔  حالاں کہ ہماری ناکامی جہاں ایک طرف ہمیں سبق دیتی ہے وہیں دوسروں کے لیے بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ زندگی میں اگر دوسروں کی مثالیں نہ ہوں تو شاید انسان کے لیے سیکھنے کا عمل بہت سُست ہو جائے۔  جب بھی کسی کام کو کرنے کا خیال اتا ہے تو انسان اس کے اچھے برے نتائج سوچتا ہے۔ کس نے کیسے اس کام کو کرنے کی کوشش کی وہ کیوں ناکام ہوا یا اُسے کیوں فائدہ ہوا۔ یہ سب تجربے ہمیں سیکھنے کا موقع اور کامیاب ہونے کا ہنر بتاتے ہیں۔ جب زندگی میں سب اچھا چلنے لگے تو انسان کی زبان پر شکر کا ترانہ بنا چاہئے۔ اور ناکامی کی صورت میں توکل کا۔ یہ بڑا اہم موڑ ہے۔ ناکامی کی صورت میں اگر زبان پر شکوے آ گئے کے میں نے تو محنت کی تھی پتہ نھی کیوں نھی کاروبار چلا، پتہ نہی...